تاریخ شائع کریں2022 30 March گھنٹہ 17:46
خبر کا کوڈ : 543780

ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے اور گہرے ہونے سے متعلق میں توقعات بڑھ گئی ہیں

ایران اور پاکستان کے تعلقات پاکستان کی آزادی کی طویل عمر کے حامل ہیں اور اپنی مجموعی مثبت حیثیت کے باوجود یہ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ جڑے رہے ہیں اور ان کے درمیان دوری اور قربتیں اکثر علاقائی اور بین الاقوامی حالات کا باعث رہی ہیں۔
ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے اور گہرے ہونے سے متعلق میں توقعات بڑھ گئی ہیں
سابق پاکستانی سفیر نے ارنا سے ایک انٹرویو کے دوران، اس امید کا اظہار کرلیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قومی کرنسی سے تجارتی لین دین کا قیام ہوجائے گا جس کے تحت وہ ریال اور روپیے کے اندر آپس میں تجارتی لین دیں کریں گے تو ان کو ڈالر سے بالکل ہٹا دیا جائے ۔

ایران اور پاکستان کے تعلقات پاکستان کی آزادی کی طویل عمر کے حامل ہیں اور اپنی مجموعی مثبت حیثیت کے باوجود یہ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ جڑے رہے ہیں اور ان کے درمیان دوری اور قربتیں اکثر علاقائی اور بین الاقوامی حالات کا باعث رہی ہیں۔

پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان؛ اسلام آباد میں تہران کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے حامی کے برسرکار آنے کے بعد سے، ہمسایہ ملک ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے اور گہرے ہونے سے متعلق میں توقعات بڑھ گئی ہیں۔

دریں اثنا، 2016 کے اوائل میں ایران کے اس وقت کے صدر روحانی کے دورہ اسلام آباد کو اس سال، تہران-اسلام آباد تعلقات میں ایک اہم موڑ سمجھا جانا ہوگا، جس کی وجہ سے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ کی بہت سی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعلقات کے حالات کو تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں ہم نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اگر یہ تعلقات درست سمت میں آگے رہیں، جیسا کہ وہ ابھی ہیں، تو ہم مستقبل قریب میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیاسی تعلقات کے حجم میں اضافہ دیکھیں گے۔

ایران کے پڑوسیوں میں سے ایک کے طور پر، پاکستان کی 900 کلومیٹر سے زیادہ زمینی سرحد ہے، جس کی عراق کے بعد ایران کے ساتھ سب سے طویل سرحد ہے۔ تاہم  ابھی تک بہت سے ایرانیوں، خاص طور پر اقتصادی کارکنوں اور تاجروں کو پاکستان سے متعلق اچھی طرح واقفیت حاصل نہیں ہے؛ لہذا اس ملک میں سامان کی مارکیٹنگ اور برآمد پر خصوصی توجہ دی جانی ہوگی۔

ایران اور پاکستان کے اقتصادی اداکاروں اور تاجروں کی باہمی صلاحیتوں سے واقفیت ناگزیر ہے۔ علاقائی اور اقتصادی سفارت کاری کو بروئے کار لانا، دونوں ممالک کے لیے بہت سے اثرات اور برکتیں لائے گا۔

اس سلسلے میں  ارنا کی رپورٹر نے اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر "آصف علی خان درانی" کے ساتھ ایک انٹرویو کی ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے؛

درانی ستمبر 2016 سے اگست  2018 تک ایران میں  بحثیت سفیر فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور اس سے قبل وہ تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اپنی فرائض پوری کی تھی۔

رپورٹر: ایرانی وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے؟

سابق پاکستانی سفیر: میرے نزدیک پاکستان اور ایران کے درمیان پائیدار تعلقات ہیں اور یہ تعلقات ایک دوسرے کی بنیاد پر قائم ہیں جو روزِ اول سے ہیں اور میرا یہ ماننا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ بعض معاملات میں ایران اور پاکستان کے موقف مختلف ہو لیکن آپس میں جو تعلقات ہیں وہ پائیدار ہیں اور دونوں جانب سے دوروں کا سلسلہ جار رہتای ہے۔ ہماری طرف سے ایران کے بہت سے دورے ہوئے ہیں جن میں وزیر اعظم اور وزرا شامل ہیں اور ایران کی طرف سے بھی صدر مملکت کا بھی دورہ اسلام آباد ہوا اور ہم امیدوار ہیں کہ ان شاللہ صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی پاکستان تشریف لائیں گے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا ایران کے حالیہ وزیر داخلہ بہت خوشائند تھا اور اس معاملے میں جو باہمی مسائل ہیں ان پر مذاکرات کیے گئے ہیں۔

رپورٹر: صدر رئیسی کی حکومت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر خاص زور دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم کس حد تک اور کس جہت میں بڑھ سکتا ہے؟

آصف علی خان درانی: ابھی ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایران اقتصادی لحاظ سے اپنی پالیسی  پر کسیا عمل پیرا ہوکر اپنے تجارتی تعلقات کو کس طرح بڑھتا ہے؛ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم اتنا زیادہ نہیں ہے ہمارے ساتھ تقریبا چارسو ملین ڈالر بنتا ہے لیکن اگر آپ کی قسم سے اتھارٹی اسٹریٹجک ہوجائے تو یہ تقریبا ایک عشاریہ دوبلین ڈالر ٹریڈ بنتی ہے اور اس سلسلے میں جو مسئلہ اس وقت سامنا آر ہا ہے خاص طور پر پاکستانی بینکوں کو، وہ ایران کیخلاف لگائی گئی پابندیاں ہیں کیونکہ پاکستان کے جو زیادہ سارے  بینکز ہیں وہ ڈالر بیس ہیں تو اس لیے ان کیلئے مشکلات ہیں؛ امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قومی کرنسی سے تجارتی لین دین کا قیام ہوجائے گا جس کے تحت وہ ریال اور روپیے کے اندر آپس میں تجارتی لین دیں کریں گے تو ان کو ڈالر سے بالکل ہٹا دیا جائے اور یہ ایک طریقہ کار ہے اور امید ہے جس کی طرف دونوں ممالک جلد آئیں گے۔

رپورٹر: ایران اور پاکستان کی انسداد منشیات اور سیکورٹی کے شعبے میں تعاون کی کیا جہتیں ہیں؟ اور یہ تعاون کیسے بڑھ سکتا ہے؟

 پاکستانی سنئیر تجزیہ کار: یہ ایک مسلسل عمل ہے؛ اور دونوں ممالک منشیات کے کنٹرول کے سلسلے میں اپنے طور میں کوشش کرتے رہے ہیں۔ امید ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام ہوجائے گا اور پھر اسے کے بعد امید ہے کہ طالبان منشیات کی کںٹرول کی طرف خاص توجہ دیں گے خاص طور پر افیون کی کنٹرول پر کیونکہ افیون بنیادی ہے اور اگر اس کو کنٹرول کرلیا جائے گا تو صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا اس وقت افغانستان میں 90 فیصد افیون کی کاشت ہوتی ہے اور وہ اس حوالے سے دنیا بھر میں نمبر ون ہے تو اگر یہ بالکل ختم ہوجائے یا کم ہوجائے تو اس کے مثبت اثرات ہوں گے اور ایران اور پاکستان اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن اس کا تیسرا فریق افغانستان ہے اور پہلے بھی ایک طریقہ کار تیار کیا گیا ہے جس میں ایران، پاکستان اور اقوام متحدہ کا دفتر برائے منشیات اور جرائم ( یو این او ڈی سی) کے مابین بات چیت ہوتی رہتی ہے امید ہے ہم اس کے مزید آگے لے جا سکیں گے۔

رپورٹر: افغانستان کے مسائل کو کم کرنے اور حل کرنے کے لیے ایران اور پاکستان کے کیا اقدامات ہیں اور اس حوالے سے تعاون کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟

 سابق پاکستانی سفیر: میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت افغانستان کی جو صورتحال ہے اگر وہ سب سے زیادہ کسی ہمسایے کو نقصان پچہنتی ہے تو وہ ایران اور پاکستان ہیں؛ اس وقت تقریبا 3 ملین پناہ گزین ایران میں ہیں اور تقریبا 4 ملین بھی پاکستان میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ خود افغانستان میں امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد سے جو قحط سالی کی صورتحال ہے وہ قوت مدافعت کا بحران ہے تو اس میں بہت کیا جا سکتا ہے خود اقوام متحدہ نے بھی تقریبا 4 ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کی ہے اور اس کے ساتھ بین الاقوامی برادری کا بھی اس بحران سے نمٹنے میں ساتھ دینا ہوگا۔

اور اس سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ نے جو افغانستان کی اکاونٹس کو منجمد کیا ہے وہ 5۔9 بلین ڈالرز ہیں اور یہ افغانوں کا پیسہ ہے- اس میں بھی انہوں نے 5۔3 بلین ڈالرز کو زبر دستی سے رکھ لیا ہے کہ ان کو ہم نائن الیون کے وکٹمز کو دیں گے حالانکہ یہ مضحکہ خیز صورتحال ہے۔ اگر آپ نائن الیون کے تناظر میں بھی دیکھیں تو کوئی افغان نائن الیون میں شامل نہیں تھا تو اس لئے کوئی محض سزا دنیا زیادہ ٹھیک نہیں ہے؛ تو میرے نزدیک دونوں ممالک اس معاملے میں خاصی تعاون کر سکتے ہیں۔

http://www.taghribnews.com/vdcg7w9nzak9tu4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس