تاریخ شائع کریں2022 14 January گھنٹہ 17:54
خبر کا کوڈ : 534402

روسی اقدامات دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہیں اور دباؤ کے تحت مذکرات نہیں ہوسکتے

مذکورہ روسی سفارت کار نے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ روس کے مذاکرات کو ڈی ریل کرنے کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے، اس میں دخیل تمام ملکوں کی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔
روسی اقدامات دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہیں اور دباؤ کے تحت مذکرات نہیں ہوسکتے
یورپی یونین کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ اور دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ پابندیوں اور ماسکو یورپ تعلقات کو کئی عشروں تک خراب کرنے کا سبب بنے گا۔

 ہمارے نمائندے کے مطابق، یورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل نے فرانس کے شہر برسٹل میں تنظیم کے وزرائے خارجہ و دفاع کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ روسی اقدامات دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہیں اور دباؤ کے تحت مذکرات نہیں ہوسکتے۔

جوزف بورل نے کہا کہ ہمیں یقین دھائی کرائی گئی ہے کہ یورپ کے بغیر کوئی فیصلہ ہوگا نہیں اور ان سے مذاکرات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں کہ یورپی یونین کو یہ یقین دھانی کس نے کرائی ہے۔

فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی نے بھی کہا ہے کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں یورپی یونین روس کے خلاف بھرپور پابندیاں ‏عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ معاملے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالے جانے کی ضرورت ہے۔

جرمن وزیر خارجہ آنالنا بائربوک نے بھی یوکرین کی صورتحال کو دھماکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران کے بارے میں یورپی یونین کا مشترکہ موقف اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے یوکرین پر حملے کے لیے روس کی منصوبہ بندی سے متعلق گزشتہ روز لگائے جانے والے الزامات سے پسپائی اختیار کرلی ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان نے اپنے تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ روس نے یوکرین پر حملے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ سفارت کاری کے لیے تیار ہے تاہم بقول ان کے اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بھی پوری طرح آمادہ ہے۔

درایں اثنا یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای میں روس کے نمائندے الیگزینڈر لوکاشووچ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپ نے ہماری پیش کردہ تجاویز کو مسترد کیا تو ماسکو اس پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ مذاکراتی عمل کو روس کی جانب سے پیش کی جانے والی سیکورٹی تجاویز سے منحرف کرنے کے نتیجے میں صورتحال مزید بدتر ہوجائے گی اور ان کا ملک جوابی اقدامات پر مجبور ہوگا۔

مذکورہ روسی سفارت کار نے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ روس کے مذاکرات کو ڈی ریل کرنے کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے، اس میں دخیل تمام ملکوں کی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔

واضح رہے کہ سیکورٹی مسائل کے بارے میں روس اور یورپی ملکوں کے درمیان تین مرحلوں میں بات چیت ہوچکی ہے۔ گزشتہ پیر کو روس اور امریکہ کے نمائندوں نے ایک دوسرے سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ بدھ کے روز مذاکرات کا یہ سلسلہ روس نیٹو مشترکہ کونسل کے تحت آگے بڑھایا گیا اور جمعرات کو او ایس سی ای کے دائرے میں روس اور یورپ کے درمیان بات چیت کا تیسرا دور انجام پایا۔
http://www.taghribnews.com/vdchvknmi23nxkd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس