تاریخ شائع کریں2022 13 August گھنٹہ 16:03
خبر کا کوڈ : 561291

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی جدوجہد نہ ہوتی تو ہمارا منصوبہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی رہ جاتا

شہید جنرل قاسم سلیمانی نے ہماری باتیں اور منصوبے ایرانی حکام کے گوش گذار کئے، اس لئے کہ حزب‌ الله کو میزائل، ڈرون اور اپنے ہتھیاروں کو تیار اور اپ گریڈ کرنے کی ضرورت تھی۔
شہید جنرل قاسم سلیمانی کی جدوجہد نہ ہوتی تو ہمارا منصوبہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی رہ جاتا
حزب‌ الله لبنان کے سیکریٹری جنرل نے گزشتہ شب اپنے خطاب میں شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں کچھ نئے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔

حزب‌ الله لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے گزشتہ شب ایک ٹیلی ویژن پروگرام (وہ ہمارے ساتھ تھے) میں کہا کہ جنوبی لبنان کی آزادی کے بعد ایک میٹنگ میں شہید جنرل قاسم سلیمانی بھی ہمارے ساتھ تھے، اس میٹنگ میں 2000 میں حزب‌ الله کی تاریخی فتح کا جائزہ لیا گیا اور اس میں غور کیا گیا کہ اسرائیل اس شکست کو ہضم نہیں کر سکتا اور ایک روز وہ حزب‌ الله کو نابود کرنے کیلئے اُس پر حملہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل در اصل لبنان کی سرزمین اور پانی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور اسیروں کو رہا کرنے کی بھاری ذمہ داری بھی ہماری گردن پر تھی اور ہم نے اسرائیلی فوجیوں کو دھر دبوچنے کا پروگرام بھی بنایا تھا۔ 

 سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر ایران حمایت نہ کرتا اور شہید جنرل قاسم سلیمانی کی جدوجہد نہ ہوتی تو ہمارا منصوبہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی رہ جاتا، لیکن شہید جنرل قاسم سلیمانی نے ہماری باتیں اور منصوبے ایرانی حکام کے گوش گذار کئے، اس لئے کہ حزب‌ الله کو میزائل، ڈرون اور اپنے ہتھیاروں کو تیار اور اپ گریڈ کرنے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جنگ میں شہید جنرل قاسم سلیمانی جیسے تھنک ٹینک کی ضرورت تھی اور شہید جنرل قاسم سلیمانی ہمارے فیصلوں میں شامل رہتے اور نئی تجاویز دینے والوں کی قدردانی کرتے اور ان کی تجاویز پر عمل کرتے۔

حزب‌الله لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی ہمیشہ استقامتی محاذ کو طاقتور بنانے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔
http://www.taghribnews.com/vdcdnf0kfyt09x6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس