امریکہ جوہری معاہدے پر اپنے آپ کو قاضی اور گواہ نہیں بنا سکتا:ایران
امریکہ اور اس کے اتحادی ایک جمہوری ایران کو نہیں دیکھنا چاہتے:ایرانی سفیر
سوائے امریکہ کے اس عمل میں شریک تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم ہے،:غلام علی خوشرو
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۲۰ مهر ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۹:۱۶
موضوع نمبر: 288310
 
اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ جوہری معاہدے پر اپنے آپ کو قاضی اور گواہ نہیں بنا سکتا جبکہ اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرکے امریکہ دنیا میں اپنی ہی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا.

یہ بات غلام علی خوشرو نے گزشتہ روز نیو یارک میں امریکی چینل 'سی این این' کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ، ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کا ایک فریق ہے، سوائے امریکہ کے اس عمل میں شریک تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اس معاہدے سے نکلنے کا ارادہ کر رکھا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے سابق امریکی حکومت کی موجودگی میں دو سال تک جوہری مسئلے پر مذاکرات کئے اور اب موجودہ امریکی حکومت پھر سے مذاکرات کرنے کی خواہاں ہے.

ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے تو کیا بھروسہ ہے کہ پھر سے اس کے ساتھ مذاکرات ہوں بلکہ نہ صرف ایران بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی اب امریکہ پر بھروسہ نہیں کریں گے.

انہوں نے کہا کہ ایران میں جمہوری نظام قائم ہے مگر مسئلہ یہاں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک جمہوری ایران کو نہیں دیکھنا چاہتے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ان ممالک کی حمایت اور انھیں اسلحہ فراہم کرتی ہے جنھیں نہ جمہوریت کا پتہ ہے اور نہ ہی امن.

غلام علی خوشرو نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خطے میں نئے بحران اور مسائل کو ہونے نہیں دیں گے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور دوسری ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لئے قدم نہ بڑھائیں.

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 15 اکتوبر کو تیسری بار یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا امریکہ، 2015 میں ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی پاسداری کی تصدیق کرے گی یا نہیں.

تاہم ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ 15 اکتوبر کو ایران کی پاسداری کی تصدیق کرنے سے گریز کریں گے جس کے بعد امریکی کانگریس ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا قانون پاس کرے گی.
Share/Save/Bookmark