پاکستان: حساس صورتحال اور محرم الحرام کی آمد،
کراچی سمیت سندھ بھر میں انتہاپسند و دہشتگرد عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن میں تیزی لانا ضروری ہے،
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۶ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۳۴
موضوع نمبر: 284189
 
پاکستان کے صوبے سندھ کی  ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے پر کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات بھی بحال کر دیئے ہیں، مگر اس فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ پچھلے 2 سال سے چلنے والا تنازعہ اب تک حل نہیں ہو سکا ہے، اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ سمیت بااثر حکومتی و انتظامی شخصیات کی کوششیں جاری ہیں کہ جلد از جلد سندھ حکومت اور اے ڈی خواجہ کے درمیان معاملات طے پا جائیں، کیونکہ محرم الحرام کی آمد میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے،

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محرم الحرام میں شہر بھر سے برآمد والے 163 ماتمی جلوسوں اور 918 مجالس کو انتہائی حساس، جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ہزاروں جلوسوں اور مجالس کو بھی حساس قرار دے دیا ہے، اس تناظر میں کراچی سمیت سندھ بھر میں انتہاپسند و دہشتگرد عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن میں تیزی لانا ضروری ہے، جس پر صوبائی حکومت اور سربراہ سندھ پولیس کے درمیان کشیدہ تعلقات اور اعلیٰ پولیس افسران کے گروہ بندیوں شکار ہونے کے باعث سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، معاملات طے پانے سے متعلق خبریں اس وقت صرف خبریں ہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کے بعد سندھ حکومت اور آئی جی پولیس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے، معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں چلا گیا، جس کا محفوظ فیصلہ گزشتہ دنوں سنا دیا گیا ہے، جس کے تحت سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے پر کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات بھی بحال کر دیئے ہیں، جس کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ایک حکمنامے کے تحت 7 جولائی کے بعد صوبائی محکمہ پولیس میں ہونے والی تمام تعیناتیاں اور تبادلے منسوخ کر دیئے ہیں اور تمام افسران کو 7 جولائی سے پہلی والی پوزیشن پر واپس جانے کا حکم دیا گیا ہے، 7 جولائی سے 9 ستمبر تک 22 نوٹی فیکیشن منسوخ کئے گئے ہیں۔

خبریں آئی ہیں کہ سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کے درمیان معاملات طے پاگئے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے کہنے پر آئی جی اے ڈی خواجہ نے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال سے ملاقات بھی کی، جبکہ اس موقع پر تبادلوں اور تعیناتیوں سمیت تمام معاملات مشاورت سے انجام دینے پر اتفاق بھی کیا گیا، آئی جی سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں سید مراد علی شاہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

باخبر ذرائع کاکہنا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کی کوششیں اور معاملات طے پانے کی خبریں فی الحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی ہیں، عدالتی فیصلہ تو آ گیا، مگر ابھی اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت میں تنازعہ ختم نہ ہو سکا ہے،

گذشتہ دنیوں کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں دونوں بڑوں کی بیٹھک میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تین آپشنز دیئے، پہلا آپشن رخصت پر چلے جائیں، دوسرا آپشن تبادلہ کرا لیں اور آخری آپشن ہم سے ورکنگ ریلیشن شپ بہتر کرلیں، وزیراعلیٰ سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ کہا کہ پولیس میں بھرتیاں سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہوں تو ہی بہتر ہے، صوبے میں اہم و اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی میں حکومت سے تجاویز لی جائیں، جس پر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے جواباً مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ سندھ حکومت سے بہتر ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں، پولیس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، پولیس کو محکمے کی طرح چلانا چاہتا ہوں۔

کچھ ماہ قبل بھی سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے کیلئے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا، جس میں عہدے کیلئے سردار عبدالمجید دستی، خادم حسین بھٹی اور غلام قادر تھیبو کے ناموں کی تجویز دی تھی۔ اس خط کے بھیجے جانے کے اگلے ہی روز حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے 21 گریڈ کے افسر سردار عبدالمجید کو قائم مقام آئی جی سندھ مقرر کر دیا تھا۔ بعد ازاں ایک شہری کرامت علی نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے آئی جی سندھ کی معطلی سے متعلق سندھ حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔

سال 2002ء سے 2017ء تک 13 آئی جی سندھ تعینات کئے گئے، مگر اے ڈی خواجہ انتہائی مضبوط ترین آئی جی سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ پولیس کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار کون ہے، محکمہ میں ہونے والی کرپشن اور بڑھتے ہوئے جرائم کا ذمہ دار کون ہے، آئی جی یا وزیراعلیٰ۔ دنیا بھر میں پولیس کو دیکھ کر عوام کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے، مگر ہمارے ملک بالخصوص کراچی میں عوام ڈاکوؤں سے زیادہ پولیس سے ڈرتے ہیں۔ شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا نا رکنے والا سلسلہ پھر شروع ہو چکا ہے۔

بینک ڈکیتیوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اور تو اور پولیس اہلکار و افسران خود انتہاپسند دہشتگرد عناصر سے محفوظ نہیں ہیں، کبھی انصار الشریعہ نامی گروہ منظر عام پر آجاتا ہے، تو کبھی کوئی اور دہشتگرد تنظیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انتہاپسند دہشتگرد نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے، مستقبل کے معمار طلبہ و طالبات دہشتگرد نیٹ ورک کا شکار ہو رہے ہیں، ان سب حوالے سے سندھ کے وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کے دعوے دھرے کے دھرے اور نقش برآب ثابت ہو رہے ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اکثر پولیس افسران اپنی تقریروں میں جونیئر اہلکاروں کو پولیس اور عوام کے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے زور دیتے ہیں، لیکن ہماری نظر میں تو پولیس اور عوام کے تعلقات بہت اچھے ہیں، جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ہماری پولیس راہ چلتے شخص سے بھی بلا جھجک چائے پانی کیلئے پیسے مانگ لیتی ہے، جس طرح چھوٹے بچے اپنے والدین سے پہلے جیب خرچ کیلئے 100 روپے مانگتے ہیں اور پھر 20 روپے بھی مل جائیں خوشی خوشی لے لیتے ہیں، یہی حال چوکیوں پر کھڑے پولیس والوں کا ہے۔

اگر آپ ایف آئی آر کٹوانے تھانے جائیں تو ڈیوٹی افسر نے پہلے چائے پانی کا مطالبہ کرتا ہے، نہ دینے پر دو تین گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہے اور پھر کافی خواری اٹھانے کے بعد بعد ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے، اگر آپ کے ساتھ دوبارہ کوئی ایسا واقعہ ہو جائے، تو پھر حوصلہ باقی نہیں رہتا کہ ایف آئی آڑ کٹوانے تھانے جائیں، عوام کا پولیس سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، مگر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آئی جی پولیس کون ہے یا کس نے تعینات کرنا ہے، عوام تو بس امن و سکون اور جان و مال کی حفاظت چاہتے ہیں، امید ہے کہ سندھ حکومت اور آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ آپس کی لڑائی کو ختم کرکے ان انتہاپسند، دہشتگرد اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مل کر لڑیں گے، جنہوں نے شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

دوسری جانب انتہائی اہم یہ ہے کہ محرم الحرام کی آمد آمد ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محرم الحرام میں کراچی بھر سے برآمد والے 163 ماتمی جلوسوں اور 918 مجالس کو انتہائی حساس قرار دیدیا ہے، کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ہزاروں جلوسوں اور مجالس کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے، رینجرز کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی اسٹینڈ بائی رکھا ہوا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی آڑ میں عزاداری اور عزاداروں کو محدود و پابند کرنے کو ہی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ سمجھا جائے، بلکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں انتہاپسند و دہشتگرد عناصر اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن میں تیزی لائی جائے۔

رپورٹ: ایس جعفری
Share/Save/Bookmark