انسانی حقوق کے سرگرم کارکن :
میانمار حکومت مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی حمایت کررہی ہے
انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کے مطابق روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے پیچھے حکومت میانمار کا ہاتھ کارفرما ہے۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۰ فروردين ۱۳۹۳ گھنٹہ ۰۰:۵۴
موضوع نمبر: 155363
 
تقریب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پریس ٹی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے برما میں امریکی مہم کے کوآرڈینیٹر میئرا دہگے پو نے کہا کہ مھجے اس بات پر پختہ یقین ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہورہے مظالم میں حکومت میانمار ملوث ہے۔

انسانی حقوق کے اس سرگرم کارکن نے کہا کہ اگر میانمار کی حکومت مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی سختی سے مذمت کرتی تو مسلمانوں کو کسی طرح کی سیکورٹی فراہم ہوسکتی تھی۔

میانمار میں مسلمانوں کی آبادی 6 لاکھ کے قریب ہے جو اس ملک کی کل آبادی کا 5 فیصد سے زائد ہے۔ 1948 میں آزادی کے بعد سے اس ملک میں رہ رہے مسلمانوں کو تشدد اور جبر کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے میانمار کی مغربی ریاست میں رہ رہے روہنگیائی مسلمانوں کو دنیا کی ایسی سب سے بڑی کمیونٹی قرار دیا ہے جو اس وقت تشدد کا شکار ہے۔

رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں بدھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں سینکڑوں مسلمان ہلاک جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر حکومت میانمار کی سخت تنقید کی ہے۔
Share/Save/Bookmark