​کربلا انسانیت کی عظیم درسگاہ کا نام ہے،
تاریخ شائع کریں : جمعه ۳۱ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۷:۰۱
موضوع نمبر: 285027
 
یوں تو محرم ہر سال آتا ہے مگر پچھلے سال کی نسبت نئے درس اور عبرت لے کر آتا ہے کہ اللہ سے محبت کرنے والے اللہ کی محبت میں سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وطن ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے، عزیزوں کو ترک کرنا ہی کیوں نہ پڑے اور اولاد کو قربان کرنا ہی کیوں نہ پڑے۔

محرم ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ ایمان و عشق کا مرحلہ امتحان پیش آئے تو مرد مومن اپنی مستورات اور اولاد کو راہ خدا میں دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ وہ مادی مفاد کو نہیں دیکھتے بلکہ اس چیز کی فکر میں رہتے ہیں کہ کن کاموں سے رضائے خداوندی حاصل ہوتی ہے، چونکہ عشق کا جذبہ اور اس کا اظہار مادی میزان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

محرم زندہ دل انسانوں کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ واقعہ کربلا صرف حسین بن علی علیہ السلام اور یزید کے درمیان چھڑ جانے والی جنگ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ہے اور حق نے اپنا سر کٹوا کر باطل کو ہمیشہ کیلئے سرنگوں کر دیا ہے۔

امام حسین علیہ السلام اپنے مختصر سے قافلہ کے ساتھ کربلا پہنچے اور وہاں امام عالی مقام نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں  انسانوں کو جینے اور مرنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ بنی امیہ کے مردہ دل سیاستدان اس بات کے خیال میں تھے کہ حسین بن علی علیہ السلام کے بعد کام تمام ہو جائے گا، لیکن زمانے کی گردش نے ان افراد کو یہ بتا دیا کہ جس حسین علیہ السلام کو تم شہید کر چکے ہو، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔

کربلا آج بھی یہی پیغام دے رہی ہے کہ حق پر ڈٹ کر باطل کا مقابلہ کرنا چاہیے، اگرچہ اپنی جان اور اولاد کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور حسین بن علی علیہ السلام نے 61 ھ میں ذبیح اللہ کی یاد تازہ کرائی، لیکن اسماعیل علیہ السلام کے ذبح ہونے اور کربلا میں ذبح ہونے والوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے، وہاں صرف ابراہیم خلیل اللہ نے خواب دیکھا لیکن یہاں حسین بن علی علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے بیٹوں کے سر کٹتے ہوئے دیکھے، ابرہیم خلیل کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، لیکن کربلا میں حسین بن علی علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے بیٹوں کو شہید کیا گیا، وہاں ایک اسماعیل تھا لیکن یہاں کئی اسماعیل تھے، جنہوں نے حسین علیہ السلام کے سامنے اپنی جانیں فدا کر دیں۔

امام علیہ السلام نے اسلام پر اپنے آپ کو قربان کرکے اور اپنی جان کو اسلام پر نچھاور کرکے اس آیت (و فدیناہ بذبح عظیم) کا مصداق بنا دیا۔ کربلا پاکیزہ رشتوں کی امین ہے، یہاں اسلام نے رشتوں کو جو عظمت عطا کی ہے، وہ اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ کربلا ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے شہید ہونے کا نام ہے،

کربلا انسانیت کی عظیم درسگاہ کا نام ہے، کربلا دائمی بقا کے لئے حکم مولا پر فنا ہونے کا نام ہے، کربلا خاندان پیغمبر (ص) کی عظمتوں کی امین ہے، کربلا عاشقوں کی منزل ہے، کربلا اسلام حقیقی کی ابدی بقا کی مسلسل تحریک ہے، کربلا عقیدتوں کا مرکز ہے، کربلا اہل محبت کا مرکز ہے، کربلا وہ چشمۂ فیض ہے، جس سے ہر انسان فیضیاب ہوتا ہے۔

کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کو پرکھا جا رہا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے خود فرمایا : (الناس عبید الدنیا و الدین لعق علی السنتهم یحوطونه مادرت معایشهم فاذا محصوا بالبلاء قل الدیانون) لوگ دنیا پرست ہیں، جب آزمائش کی جاتی ہے تو دیندار کم نکلتے ہیں۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جو آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدم رہے اور دنیوی مفادات کے لئے اپنی آخرت کو خراب نہ کرے۔

آج واقعہ کربلا کو وقوع پذیر ہوئے چودہ سو سال سے بھی زیادہ کا عرصہ ہوا ہے، لیکن عاشورا کا دن ابھی ڈھلا نہیں۔ شام غریباں کی بے مہر تاریکیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ سر امام حسین علیہ السلام ابھی نوک سناں سے اتر انہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظلوم اور ستائی ہوئی بیٹیاں، بے مقنعہ و چادر، رسن بستہ ابھی تک سکھ کا چین نہیں لے سکیں۔

امام حسین علیہ السلام آج بھی دشت کربلا میں تنہا "ھل من ناصر ینصرنا" کی صدا دے رہے ہیں۔ آج بھی اموی شیاطین اور یزیدی افکار رکھنے والے چراغ مصطفوی کی لو کو گل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج بھی شرور بو لہبی سے امام مظلوم کے اعداء پہلے سے زیادہ فعال ہو کر، مکر و فریب کے جدید اسلحوں اور نئی روشنی اور روشن فکری کے چکا چوند قمقموں سے دنیا کو ظلمت کدہ بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

آج بھی یزیدی فکر دنیا میں پروان چڑھ رہی ہے اور یہ حسینیت کا تقاضا ہے کہ حسینی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اچھائیوں کو رائج اور برائیوں کو ختم کرکے معاشرے کو ایک حقیقی اصلاحی معاشرہ بنا دیں، جہاں کوئی طاقتور کسی کمزور پر ظلم نہ کرسکے، جہاں برائی کو اچھائی پر ترجیح نہ دی جائے۔ آج شیطان بزرگ امریکہ اور اس کے چیلے داعش، القاعدہ اور طالبان اسلام ناب کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیطان بزرگ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور ان کے دستر خوان پر پلنے والے یزیدی افکار رکھنے والے عناصر کو علم ہونا چاہیئے کہ شیعیان حید کرار اہل بیت عصمت و طہارت سے محبت کرتے رہیں گے اور ان کا غم مناتے رہیںگے اور قیامت تک یہ سلسلہ بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔
 
Share/Save/Bookmark