برما کے معاملے کے پیچھے گہري سازش نظر آرہی ہے
مسلمانوں کے قتل عام پر سعودي اتحاد کہاں غائب ہوگيا، اکتاليس ملکوں کي افواج کہاں گئيں، قاضی احمد نورانی
پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمام مسلمان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق امام حسین کا غم مناتے ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عمدہ مثالیں ہمارے معاشرے میں عام نظر آتی ہیں
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۲۷ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۷:۵۴
موضوع نمبر: 284407
 
برما کے معاملے کے پیچھے گہري سازش نظر آتي ہے، امريکا اور اسرائيل ڈرامہ رچا کر وہاں اقوام متحدہ کي فوجیں اراتنا چاہتے ہیں، رہنما جمعیت علمائے پاکستان
 
مسلمانوں کے قتل عام پر سعودي اتحاد کہاں غائب ہوگيا، اکتاليس ملکوں کي افواج کہاں گئيں، قاضی احمد نورانی
 
 عيد مباہلہ تمام مسلمانوں کے لئے عقيدت و احترام کا روز ہے، خاندان عصمت و طہارت کے ايک ايک فرد کي عظمت اپنے کمال پر ہے، تقریب نیوز ایجنسی سے خصوصی مکالمہ

 
 
 
جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا قاحی احمد نورانی نے کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی سے خصوصی بات چیت میں کہا ہے کہ "برما کي صورتحال کافي ازيت ناک ہے، ہمارا بھي اس تمام قضئيے پر وہي موقف ہے، جو ايک عام مسلمان يا عالم اسلام کا ہونا چاہيئے، البتہ اس ساري معاملے ميں ايک گہري سازش نظر آتي ہے، ايسا محسوس ہو رہا ہے کہ ميانمار کي حکومت اور فوج کو اکسا کر مسلمانوں کو مروايا جا رہا ہے، انھيں قتل و غارت گري پر آمادہ کيا جا رہا ہے، امريکا اور اسرائيل کا مقصد اس کے پيچھے يہ نظر آرہا ہے کہ کسي نہ کسي طرح قتل عام کا بازار گرم کر کے وہاں امن مشن کے نام پر اقوام متحدہ کي فوج اتاري جائے، اور جہاں تک نسل کشي کا سوال ہے تو اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے کہ اسرائيل اور امريکا شروع سے ہي مسلمانوں کے دشمن ہيں، تو وہ چاہتے ہيں کہ برما ميں بلکہ دنيا کے کسي بھي کونے ميں مسلمان پنپ نہ سکيں، مسلمانوں کي نسل نابود کردي جائے، انھيں مٹا ديا جائے۔"
 
صرف دو ايک ممالک کے علاوہ عالم اسلام کي خاموشي کے سوال پر مولانا قاضي احمد نوراني نے کہا کہ "برما کي صورتحال پر عالم اسلام کي خاموشي يقينا مجرمانہ ہے، مسلم امہ کي بے حسي سب پر عياں ہے، مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے، لاشوں کو کاٹا اور جلايا جا رہاہے، بے حرمتي ہو رہي ہے، ليکن دو ايک اسلامي ملکوں کے کوئي بولنے کو تيار نہيں، روہنگيا مسلمانوں کے لئے سرحديں بند کري ہيں، ان کے جانے والے راستوں پر بارودي سرنگيں بچھا دي ہيں، يہ نسل کشي نہيں تو اور کيا ہے، ليکن اسلامي ملک چپ سادھے بيٹھے ہيں۔"
 
اسلامي ممالک کي خاموشي کے پيچھے کون سے عوام کارفرما ہيں، اس سوال کے جواب ميں قاضي احمد نوراني نے کہا کہ "ايران اور ترکي کے علاوہ کوئي ملک لب کشائي نہيں کر رہا، صدائے احتجاج بلند نہیں کر رہا، مسلمان ممالک امريکا کی لونڈی بنے ہوئے ہیں، جب تک عالمي طاقتيں اشارہ نہيں کرتيں، وہ کچھ نہيں کرتے اور کہتے، وہ برما ميں مسلمانوں کے قتل عام کو پرائے گھر کي لڑائي سمجھ رہے ہيں، ليکن انھيں عالم نہيں کہ آج نہيں تو کل اس کے آقا امريکا اور اسرائيل اسے بھي اسي آگ ميں جھونک ديں گے۔"
 
اسلامي امہ کے لئے سعودي عرب کے اسلامي اتحاد پر کھل کر تنقيد کرتے ہوئے جمعيت علمائے پاکستان کے رہنما قاضي احمد نوراني نے کہا کہ "پتہ نہيں وہ سعودي اتحاد کہاں دفعان ہوگيا، اکتاليس ملکوں کي افواج کہاں گئيں، اسلامي اتحاد بناتے وقت بڑے بڑے دعوے کئے گئے تھے، تلواروں کا رقص کيا گيا تھا، ليکن ہم يہ بتانا چاہتے ہيں کہ تلواريں رقص کے لئے نہيں، جنگ ميں استعمال کرنے کے لئے ہوتي ہيں۔"
 
انھوں نے کہا کہ "بدقسمتي سے سعودي عرب کا کردار برما کے معاملے پر بھي ہميشہ کي طرح بے حسي اور بے غيرتي کا ہے، وہ خود کو عالم اسلام کا سب سے بڑا نمائندہ کہلواتا ہے، ايسے ميں اس کي ذمہ داري تھي کہ تمام اسلامي ملکوں کے سربراہان کا اجلاس بلاتا، برما کي حکومت پر دباؤ ڈالتا، اور مسلمانوں کے قتل عام پر احتجاج کرتا، ليکن رياض حکومت ہر وہ کام کرتي ہے، جو مسلمانوں کے خلاف ہو، ايران کا معاملہ ہو يا قطر کا، عراق ميں بھي سعودي عرب نے امريکا کا ساتھ ديا، يمن پر بھي جنگ مسلط کر رکھي ہے، افغانستان اور کشمير کے مسئلے پر بھي سعودي عرب خاموش ہے۔"
 
عيد مباہلہ کے حوالے سے ايک سوال کے جواب ميں قاضي احمد نوراني نے کہا کہ "بلاشبہ عيد مباہلہ تمام مسلمانوں کے لئے عقيدت و احترام کا روز ہے، حضور ص کي حيات طيبہ ميں ايک موقع ايسا آيا کہ جب عيسائيوں کے نجران قبيلے کے لوگوں نے مسلمانوں سے اختلاف کرتے ہوئے مباہلے کي دعوت دي، اور کہا کہ ہم اپنے گھروالوں کو لے کر آئيں گے آپ اپنے گھر والوں کو لائيں، جس کے جواب ميں سرور کائنات ص حضرت علي، حضرت فاطمة الزہرا، امام حسن و امام حسين کو اپنے ساتھ لے کر گئے، جب عيسائيوں نے ايسي عظيم المرتبت شخصيات کو ديکھا تو اپنے قبيلے والوں سے کہا کہ ان سے مباہلہ نہ کرنا، يہ وہ چہرے ہيں جو پہاڑوں کو اشارہ کريں تو وہ سجدہ ريز ہوجائيں، خاندان عصمت و طہارت کے ايک ايک فرد کي عظمت اپنے کمال پر ہے، عيسائي تو اہل بيت ع کو پہچان گئے اور پيچھے ہٹ گئے، ليکن افسوس مسلمان آج تک نبي ص کے گھروالوں کو نہ پہچان پائے، اگر پہچانے ہوتے تو دنيا ميں مسلمان جس تنزلي اور زلت سے دوچار ہيں، وہ ان کا مقدر نہ ہوتي۔"

محرم الحرام سے متعلق پیغام کربلا پر بات کرتے ہوئے قاضی احمد نورانی نے کہا کہ"کربلا ہر میدان میں استقامت کا درس دیتی ہے، حوصلہ دیتی ہے کہ حق اور سچ کے ساتھ باطل کے مدمقابل ڈٹ جائیں تو پروردگار بھی مدد کرے گا، ہر بات کا فہصلہ ایمان پر ہوتا ہے، وقتی شکست سے کچھ نہیں ہوتا، ہمیں ہر بات یا عمل کا انجام مدنظر رکھنا چاہیئے، جیسا کہ کربلا میں ظاہری طور پر یزید ملعون نے امام حسین ع کو شہید کردیا، لیکن اصل میں اس نے خود کو مار لیا، کوئی آج اس کا نام تک نہیں لیتا، جبکہ حسین حسین کی صدا دنیا میں گونج رہی ہے۔ میدان کربلا میں عظیم قربانیوں سے صبر و ایثار کا جزبہ پیدا ہوتا ہے، ہر مظلوم کو ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ملتی ہے، گویا کربلا ایک قوت کا نام ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمام مسلمان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق امام حسین کا غم مناتے ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عمدہ مثالیں ہمارے معاشرے میں عام نظر آتی ہیں، پانی اور شربت کی سبیلیں اہل تشیع اور اہل سنت مل کر لگاتے ہیں، امام کی یاد میں نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں، ہم بھی جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں، وہ لوگ بھی ہماری تقریبات میں آتے جاتے ہیں۔"
 
Share/Save/Bookmark