چوہدری نثار کے کالعدم تنظیموں کے لئے دیئے گئے بیان نے تنازعہ کھڑا کر دیا
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم فرقہ وارنہ تنظیموں کا موازنہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے نہیں کیا جانا چاہیے
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے سینیٹ میں دیئے گئے ایک بیان میں کالعدم تنظیموں کی درجہ بندی پیش کیے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایوان بالا سے واک آؤٹ کیا۔
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۲ دی ۱۳۹۵ گھنٹہ ۰۷:۲۵
موضوع نمبر: 256599
 
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے سینیٹ میں دیئے گئے ایک بیان میں کالعدم تنظیموں کی درجہ بندی پیش کیے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایوان بالا سے واک آؤٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم کے وفد سے ملاقات کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراض پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم فرقہ وارنہ تنظیموں کا موازنہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے فرقہ وارانہ تشدت گذشتہ 1300 سال سے جاری ہے۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کچھ تنظیمیں مکمل دہشت گرد ہیں جبکہ کچھ فرقہ وارانہ جھگڑوں میں ملوث ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ جماعتیں ہیں جنھیں ماضی کی حکومتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر جب دنیا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے پاکستان کی مجموعی صورت حال انتہائی مختلف ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں بہتری آرہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک میں ہونے والے واقعات کی تعداد سال بھر میں ایک ہزار سے کم ہوئی ہے اور ان میں سے 474 واقعات میں لوگوں کی قیمتی جانیں گئیں ہیں۔

ایوان بالا سے واک آؤٹ کی سربراہی کرنے والے سینیٹر طاہر حسین مشہدی کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کے رہنما، جنھیں چائے پیش کی گئی، وہ اس تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ وزیر داخلہ کا بیان حیران کن ہے جیسا کہ بہت سے فرقہ وارانہ گروپ انتہائی خطرناک ہیں اور طالبان سے بھی زیادہ ظالم ہیں اور یہ فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی دہشت گرد ہیں۔

چوہدری نثار نے دعویٰ کیا کہ جس وقت وزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا تھا انھوں نے ان کی حمایت میں بیان جاری کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں اور جس وقت دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت ہو تو سب کا ایک ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور اسے منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے مشترکہ کوششیں بروکار لائی جائیں۔

بعد ازاں پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے ان کی وزارت کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں 94 'مشتبہ' مذہبی مدارس کو کالعدم قرار دینے کو کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے، آپ مدراس کو کیسے کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟'

ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مدارس کے خلاف صوبے کو خود کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ فہرست میں دیگر صوبوں میں موجود مدارس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل کہ وزارت داخلہ کو مذکورہ فہرست فراہم کی جاتی وزیراعلیٰ نے اس پر بیان بھی دیا تھا۔
Share/Save/Bookmark