تمام دنیا میں وحدت کی جانب تمایل تقریب کی کوششوں کا نتیجہ ہے
آج کا سب بڑا چلینج تفرقہ ہے۔ عالمی مجلس تقریب
وحدت عالم اسلام اور امت واحدہ کی دستیابی کے لئے اہم ترین راہ ہے۔آیت اللہ اراکی
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۱۹ مهر ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۳۳
موضوع نمبر: 288116
 
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ آج جو دنیا میں وحدت کی جانب تمایل  ہے وہ تقریب کی شخصیات،ادارے،انجمنوں کی بھر پور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
 
تقریب،خبررساں ایجنسی ﴿تنا﴾ کے مطابق،عالمی مجلس تقریب مذاھب اسلامی کے سیکریٹری جنرل جناب آیت اللہ اراکی نے ایران میں بین الاقوامی وحدت ڈپلومیسی کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ ، وحدت عالم اسلام اور امت واحدہ کی دستیابی کے لئے اہم ترین راہ ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ اس سیاست کو اپنایا جائے۔

عالمی مجلس تقریب مذاھب اسلامی کی اہم ترین زمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ اس سلسلے میں جدوجہد کرے اور یہ اس کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ عالم اسلام کے سارے وہ افراد جو امت سے دلسوز ہیں  کو تقریب نے اس  فکر کے تحت  سب کو جمع کر لیا ہے۔

انھوں نے عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کی جانب اشارہ کیا اور کہا ہے آج کا سب بڑا چلینج تفرقہ ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس اجلاس میں ہمارا قصد یہ ہے کہ اس کام کو بڑے پیمانے پر کیا جائے اور اس کو پورے ایران میں پھیلایا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس اجلاس کا ہدف میدان عمل میں قدم رکھنا ہے اور انسجام کی  بین الاقوامی صورت ایجاد کرنا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ،آج عالم اسلام میں ہر جگہ اسلامی شخصیات، تنظیمیں،اسلامی ادارے وحدت کے بارے میں سوچتے ہیں اور دنیا میں وحدت کے لئے کام کر رہے ہیں اور اب تک بہت اہم کام انجام پا چکے ہیں۔

انھوں نے تاکید کی ہے کہ اگر وحدت کے سلسلے میں تقریب کی فعال نا ہوتی تو دشمن اسلام کی سازش کامیاب ہو جاتی،ہم عالم اسلام میں بہنے والے خون کے گواہ ہیں ،اگر وحدت کی جانب عمل پیرا ناہوتے تو دنیا میں آج اتحاد کی جانب تمایل ناہوتا،یہ تقریب کی کاوشیں ہیں کہ دنیامیں وحدت اسلامی کا بول بالا ہے۔ 

انھوں نے کہا ہے کہ اجلاس میں اس بات کی کوشش کی جائی گی کہ سب سے پہلے تنظیموں، اداروں کو ایک دوسرے سے پیوست کیا جائے اور ادارہ ان کی پشت پناہی کرے لہذا جو بھی شخصیات اس اجلاس میں شریک ہیں میں ان سے کہنا چاہوں گا اپنے اپنے ممالک جاکر اس سلسلے میں پروگرام مرتب کریں اور وحدت کے تمایل کی کوشش میں مقدمات تشکیل دیں تاکہ ایک امت کہلائیں۔

انھوں نے امت واحدہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ،امت واحدہ کا یہ معنیٰ نہیں کہ حدود وجغرافیا کو اٹھا لیا جائے اور حکومتیں ختم ہو جائیں،اگرچہ یہ ایک مطلوب جہت ہے بلکہ امت واحدہ کا مفہوم یہ ہے کہ یورپ کی مانند ایک پروگرام مرتب کیا جائے کہ جس میں تمام اسلامی ممالک پوری دنیا میں اقتصادی، ثقافتی، سیاست وتجارت میں ایک ہوجائیں۔  
Share/Save/Bookmark