عالم اسلام اختلافات سے صرف نطر کرتے ہوئے وحدت کو فروغ دے
حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ نے غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی کامیابی کو خطے میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کو
حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ نے غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی کامیابی کو خطے میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کو تاکید کی ہے کہ تمام عالم اسلام باہمی اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے وحدت کو فروغ دیں
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۱۸ شهريور ۱۳۹۳ گھنٹہ ۱۵:۱۴
موضوع نمبر: 168507
 
حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ نے غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی کامیابی کو خطے میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کو تاکید کی ہے کہ تمام عالم اسلام باہمی اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے وحدت کو فروغ دیں۔ تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے آج فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں عالم اسلام کے علماء اور دانشوروں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کانفرنس کے انعقاد پر مجمع جاہنی تقریب مذاہب اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی مظلوم عوام نے اس دفعہ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ مزاحمت اس بات کی تاکید کر رہی ہے کہ وہ غاصب صہیونی حکامت سے مقابلہ کرنے والے گروہوں میں صف اول پر کھڑی ہے اور ہمیں اس مزاحمت کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ غزہ صہوینی حکومت کے مقابلے میں تین بار کامیابی حاصل کر چکی ہے کہا کہ غزہ میں مزاھمت کی کامیابی اس لئے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ مزاحمت نے غاصب صہیونی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو قانونی طور پر تسلیم کئے جانے کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پایدار ثابت ہو گی اور یہ عالم اسلام کو قدس کی آزادی کے لئے زمینہ فراہم کرے گی۔ اگر فلسطین کامیاب ہوا تو یہ پورے عالم اسلام کی کامیابی ہو گی کیونکہ تمام عالم اسلام میں مصیبتیں غاصب صہیونی حکومت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے شام کے بحران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور فلسطین کے مسئلہ پر اسلامی مزاحمت کی اہمیت اور وحدت پر زود دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی وحدت اصل اساس ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہئے کہ ہمارے جزءی اور چھوٹے چھوٹے اختلافات کی وجہ سے یہ اصل مسئلہ مشکلات کا شکار و جائے۔
شیخ نعیم قاسم نے خطے میں جاری تکفیریت کے مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تکفیری دہشتگرد اسلام اور انسانیت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ اور اسلام ناب محمدی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے حامیوں کی جانب سے مطرح کیا جا رہا ہے اس کا چہرہ مسخ کر نا چاہتے ہیں۔ جو لوگ تکفیریوں کی حمایت کر رہے ہیں وہ لوگ ا نکے گناہ میں برابر کے شریک ہیں اور جو لوگ انکے ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ اسلام کے مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور تکفیری گروہ اب نابود ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم انے اتھاد کے زریعے انکا قلع قمع کر دیں۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہم اپنی کامیابی کے لئے کسی عجلت میں گرفتار نہیں ہیں یکن اہم یہ ہے کہ اس کے لءے ہماری روش درست ہونی چاہئے، حزب اللہ نے نہ صرف ہ کہ اپنیسرزمین کو آزاد کروایا ہے بلکہ خطے کے معادلات کو بھی بدل کر رکح دیا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام میں اس بات کی تاکید کی کہ مختلف مسائل میں اسلام کے کردار، فلسطین کے مسئلہ کو اہمیت دینا، مزاحمت کو ایک اصل قوت کی حیثیت سے تسلیم کرنا، اسلامی جمہوریہ ایران کی روش کی پیروی اور امام خمینی اور مقام معظم رہبی سے تمسک اور اسلامی وحدت وہ اہم موضوعات ہیں جن کو اس کانفرنس کا محور بنانا چاہئے۔
Share/Save/Bookmark