حسین سب کے ہیں اور محرم حریت پسندوں اور انقلابیوں کا مہینہ ہے۔ علامہ سید عابد حسین الحسینی
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۳ مهر ۱۳۹۶ گھنٹہ ۲۳:۴۴
موضوع نمبر: 285553
 
پاکستان: پاراچنار کے علامہ سید عابد حسین الحسینی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان  اور اسکے بعد تحریک جعفریہ میں صوبائی صدر اور سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن رہے۔ 1997ء میں تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے معاشرے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ 

سوال: محرم الحرام کے دوران ملکی سطح پر ہونیوالے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔؟
علامہ عابد حسینی: ملکی سطح پر مجالس امام حسین علیہ السلام کے لئے سکیورٹی ہو یا کسی بھی جلسے جلوس کی سکیورٹی۔ اسکے لئے تمام تر حفاظتی اقدامات کرنا حکومت وقت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ پاکستان نہیں بلکہ ہر ملک کی انتظامیہ کا اپنے عوام کی سکیورٹی کا خیال رکھنا آئینی ذمہ داری ہے، تاہم وطن عزیز میں ملکی سطح پر مجالس امام حسین علیہ السلام کے لئے سکیورٹی کا بندوبست کرنے والے تمام اداروں کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

سوال: پاراچنار میں محرم الحرام کے دوران کئے جانیوالے سکیورٹی انتظامات سے آپ مطمئن ہیں۔؟
علامہ عابد حسینی: سکیورٹی ٹھیک ہے، تاہم ہم نے پہلے بھی متعلقہ حکام سے بار بار شکایت کی ہے کہ سکیورٹی کے نام پر لوگوں خصوصاً خواتین کو تنگ نہ کیا جائے۔ خواتین کو گاڑیوں سے اتارنا ہماری قبائلی روایات کے منافی ہے۔ ہماری روایات کے مطابق خواتین کے ساتھ ہمیشہ اپنے رشتہ دار ہوا کرتے ہیں، تو جب رشتہ دار ساتھ ہیں، انکی چیکنگ اور شناخت ہو جائے تو پھر خاتون کو اتار کر چیک کرنے کیا ضرورت ہے۔ تحریک حسینی کے ذریعے یہ آواز پہلے بھی ذمہ داروں تک پہنچائی جاچکی ہے، آج بھی آپ کے توسط سے یہ آواز پہنچاتے ہیں کہ محرم کو عوام کے لئے مصیبت نہ بنائیں۔ خطرناک لوگ اور قوموں کا سرکار کو بخوبی علم ہے، لہذا شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ شخص خطرناک ہے اور یہ پرامن۔ چنانچہ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ یہ مقامی طوری قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو اسکو مزید تنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

سوال: آپکے ہاں پاک افغان بارڈر کی کیا صورتحال ہے۔؟
علامہ عابد حسینی: ہمارا گھر پاراچنار شہر کی نسبت سرحد سے کچھ زیادہ قریب ہے۔ پورا دن اور پوری رات یہاں طیارے مسلسل محو پرواز ہوا کرتے ہیں۔ ہمیں تو معلوم نہیں، تاہم سننے میں آرہا ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل سرحد کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ جہاز کی آواز سنے بغیر ایک لمحہ نہیں گزرتا۔ اگر سچ مچ یہ امریکی جہاز یا ڈرون ہیں تو یہ تو نہایت شرم کی بات ہے۔ امریکہ کو ہمارے ملک کے اندر گھسنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ آزادی کے 70 سال بعد بھی ہمارے حکمرانوں کو آزادی کی نعمت نصیب نہ ہوسکی۔ پاکستان کے عوام آزاد ہیں، لیکن ہمارے حکمران ابھی تک امریکہ کی قید میں پڑے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سوال: محرم الحرام کے حوالے سے مولا کے متوالیوں کو کیا پیغام دینا پسند کرینگے۔؟
علامہ عابد حسینی: میرے خیال میں ماہ محرم اور قیام امام حسین علیہ السلام صرف اہل تشیع کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ حسین (ع) سب کے ہیں اور محرم حریت پسندوں اور انقلابیوں کا مہینہ ہے۔ دنیا بھر کے مستضعفین خصوصاً حریت پسندوں کے لئے کربلا ایک درسگاہ ہے اور امام حسین علیہ السلام کی ذات بابرکات ایک نمونہ زندگی ہے۔ لہذا دنیا بھر کے مظلوموں، محروموں خصوصاً اہلیان پاکستان سے میری گزارش ہے کہ اسلام پر اور اپنے ملک پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دیں۔ خواہ تمہیں اپنی جان و مال کے علاوہ اپنی ناموس کی قربانی کی ضرورت کیوں نہ پڑے۔ ہر ظالم و جابر کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور ہر مظلوم کی حمایت میں قیام کریں۔ شیعیان حیدر کرار سے میری خصوصی گزارش ہے کہ اپنی مجالس سے ثابت کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں امام علی اور امام حسین علیہما السلام کے پیروکار ہیں۔ کوئی ایسا کام ان سے سرزد نہ ہو، جس سے نفرت کی بو آتی ہو۔ نیز کوئی ایسا کام سرانجام نہ دیں جس سے شیعوں کی حقانیت غیروں پر مشکوک ہو۔

سوال: معاشرے میں خصوصاً محرم الحرام کے دوران علمائے کرام کی ذمہ داری کیا ہے۔؟
علامہ عابد حسینی: علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو درست سمت پر گامزن کریں، جبکہ محرم الحرام تو علمائے کرام کے لئے ایک سنہری موقع ہے۔ اس دوران علمائے کرام کو منبر اور امام بارگاہ میسر ہے۔ چنانچہ انہیں چاہئے کہ منابر اور امام بارگاہوں سے مومنین کی درست تربیت کریں۔ قیام امام حسین علیہ السلام کا مقصد اور فلسفہ بیان کریں اور یہ کہ لوگوں کو قیام امام مہدی علیہ السلام کے لئے پوری طرح آمادہ کریں۔ عوام کو صحیح معنوں میں حسینی اور عاشورائی مومن بنا ڈالیں۔ علماء اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں کہ وہ منبر رسول اور امام بارگاہوں کو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لئے شجر ممنوعہ نہ بنائیں بلکہ اس پلیٹ فارم سے اخوت و رواداری کا درس دیا کریں۔ ہاں اپنے مکتب کی حقانیت بیان کریں، تاہم اس انداز سے قطعاً نہیں کہ جس سے دیگر مسالک کے لوگوں کی دلآزاری ہو۔

سوال: دنیا بھر میں شیعیت، دشمنوں کے نشانے پر ہے، خاص طور پر محرم میں اور پھر پاکستان میں تو محرم کا مہینہ نہایت حساس ہوتا ہے، بتائیں کہ امام بارگاہوں اور ماتمیوں کے تحفظ کیلئے کیا کیا جانا چاہئے۔؟
علامہ عابد حسینی: محرم کے دوران ہمارا ملک نہایت حساس صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس دوران ماتمیان و موالیان امام حسین کو چاہئے کہ امام بارگاہوں اور ماتمیوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ سکیورٹی کے حوالے سے صرف انتظامیہ پر تکیہ نہ کیا کریں بلکہ انکے شانہ بشانہ خود بھی فرائض انجام دیتے رہیں، جبکہ بازاروں میں غیر ضروری طور پر ہجوم بنانے سے پرہیز کیا کریں۔ خصوصاً خرید و فروخت کے دوران ہجوم بنانے سے اجتناب کیا کریں۔ ایک خاص بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ مین گیٹوں پر متعین سکیورٹی کے علاوہ کسی خفیہ مقام سے ان پر نظر رکھی جائے۔ اور گیٹ پر کسی بھی ناخوشگوار حادثے کی صورت میں خفیہ مقامات سے مزاحمت کرکے ماتمیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
Share/Save/Bookmark