عید مبعث الرسول، آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی نگاہ میں
عید مبعث الرسول، آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی نگاہ میں
اہم یہ ہے کہ ہم اس عظیم واقعے سے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات کا پیش خیمہ اور اساس ہے درس
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۶ خرداد ۱۳۹۳ گھنٹہ ۲۱:۰۷
موضوع نمبر: 159824
 
27 رجب وہ مبارک دن ہے جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے درجے پر فائز ہوئے اور ان پر خداوند متعال کی جانب سے پہلی وحی نازل ہوئی۔ اس عظیم دن کو بہتر پہچاننے کیلئے عظیم شخصیات کے اقوال کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔ ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے مختلف مواقع پر اس مبارک اور نورانی دن کے بارے میں اظہار نظر فرمایا ہے۔ روز بعثت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی فرمایشات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

تاریخ کا سب سے عظیم اور بابرکت دن:
روز بعثت بے شک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم دن ہے کیونکہ وہ جو خداوند متعال کا مخاطب قرار پایا اور اس کے کاندھوں پر ذمہ داری ڈالی گئی، یعنی نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ کا عظیم ترین انسان اور عالم وجود کا گران مایہ ترین سرمایہ اور ذات اقدس الہی کے اسم اعظم کا مظہر یا دوسرے الفاظ میں خود اسم اعظم الہی تھا اور دوسری طرف وہ ذمہ داری جو اس عظیم انسان کے کاندھوں پر ڈالی گئی یعنی نور کی جانب انسانوں کی ہدایت، بنی نوع انسان پر موجود بھاری وزن کو برطرف کرنا اور انسان کے حقیقی وجود سے متناسب دنیا کے تحقق کا زمینہ فراہم کرنا اور اسی طرح تمام انبیاء کی بعثت کے تمام اہداف کا تحقق بھی ایک عظیم اور بھاری ذمہ داری تھی۔ یعنی خداوند متعال کا مخاطب بھی ایک عظیم انسان تھا ور اس کے کاندھوں پر ڈالی گئی ذمہ داری بھی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ لہذا یہ دن انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن ہے۔ [17 نومبر 1998ء]۔

انسانی تاریخ کی عید:
عید سعید مبعث درحقیقت انسانی تاریخ کی عید ہے۔ روز مبعث حقیقت میں ایسے پیغام کا پرچم بلند کئے جانے کا دن ہے جو بنی نوع انسان کیلئے بے مثال اور عظیم ہے۔ بعثت نے علم و معرفت کا پرچم بلند کیا ہے۔ دوسری طرف روز بعثت عدل، رسالت اور اعلی اخلاق کیلئے جدوجہد کا نام ہے۔ "بعثت لاتمم مکارم الاخلاق"۔ [15 اکتوبر 2001ء]۔

انسانی سعادت کی بنیاد:
عید سعید مبعث انسان کی سعادت کی بنیاد اور ہمیشہ کیلئے خیر و برکات کا سرچشمہ ہے۔ روز بعثت کے دن کو منانا صرف مسلمانوں کا ہی وظیفہ نہیں بلکہ مظلوم بشریت کو چاہئے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کا احترام اور قدردانی کرے کیونکہ انسان کی نجات ان تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ [8 فروری 1991ء]۔

بعثت کے اہداف:
وہ چیز جو عید سعید مبعث سے درس حاصل کرنے اور اس سے صحیح طور پر مستفید ہونے کیلئے ہمارے نزدیک اہمیت کی حامل ہونی چاہئے وہ اپنے فہم و درک کے مطابق بعثت کے پیغام کو سمجھنا ہے۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کیلئے کچھ خاص اہداف و مقاصد مشخص کئے ہیں۔ یہ اہداف مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ انسان کی انفرادی زندگی کے اہداف:
اصلی ہدف بھی انسان کی انفرادی زندگی میں انقلاب اور تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ اس بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سورہ آل عمران کی آیہ 164 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
"لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمہ"۔
یہ تزکیہ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم درحقیقت وہی انسان کی اندرونی تبدیلی اور انقلاب ہے۔ انسان کیلئے اپنی خلقت کے حقیقی مقصد تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ اپنی انفرادی زندگی کے بارے میں بعثت انبیاء کے اہداف کی تکمیل کرے۔ یعنی اپنے اندر بنیادی تبدیلی پیدا کرے۔ اپنے باطن کی اصلاح کرے اور خود کو تمام برائیوں اور پستیوں اور ان تمام خواہشات سے نجات دلائے جو انسان کے اندر موجود ہیں اور دنیا کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ ہدف انسان کی انفرادی زندگی سے متعلق ہے۔

جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: "انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق"۔ یعنی میں اعلی اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث ہوا ہوں۔ انسان کا حقیقی مقصد اس اعلی اخلاق کی جانب پلٹنا ہے۔ یعنی تہذیب نفس انجام دینا ہے۔ انسان کو حکمت کی جانب لے جانا ہے۔ اسے جہالت سے نکال کر حکیمانہ زندگی اور فہم و فراست کی جانب لے جانا ہے۔ [8 فروری 1991ء]۔

۲۔ انسان کی اجتماعی زندگی کے اہداف:
انسان کی اجتماعی زندگی سے متعلق بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہدف اجتماعی عدالت و انصاف کا تحقق ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے:
"لقد ارسلنا رسلنا بالبینات و انزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط"۔ [سورہ حدید، آیہ 25]۔
"قسط" اور "عدل" میں ایک بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ عدل کا مفہوم عام ہے یعنی وہی اعلی اور برتر مفہوم جو انسان کی شخصی اور اجتماعی زندگی اور روزمرہ حوادث میں پایا جاتا ہے۔ عدل کا مطلب ہے صحیح طرز عمل، معتدل ہونا اور اعتدال کی حد کو پار نہ کرنا۔ لیکن قسط کا مطلب اسی عدالت کو اجتماعی روابط میں اجراء کرنا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہم اجتماعی عدالت اور انصاف کا نام دیتے ہیں۔ یہ عدل کے عام مفہوم سے مختلف ہے۔ اگرچہ انبیای الہی کا بنیادی ہدف اسی عدل کے عام مفہوم کو تحقق بخشنا تھا کیونکہ "بالعدل قامت السموات و الارض"۔ آسمان اور زمین عدل کی برکت سے ہی استوار ہیں۔ لیکن وہ چیز جس کی وجہ سے انسانیت کو آج تمام مشکلات کا سامنا ہے اور بشریت اس کی پیاسی ہے اور اس کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں "قسط" ہے۔ قسط یعنی یہ عدل و انصاف انسانی کی اجتماعی زندگی میں جلوہ گر ہو جائے۔ انبیاء علیھم السلام اسی مقصد کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔ [8 فروری 1991ء]۔

انبیاء علیھم السلام کی نصیحت اور وصیت:
صرف یہ کہ بیٹھ کر یہ کہتے رہیں کہ آیہ نازل ہوئی اور جبرئیل آئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت پر فائز ہو گئے اور یہی کہہ کہہ کر خوش ہوتے رہیں کہ کون ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لایا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہم اس عظیم واقعے سے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات کا پیش خیمہ اور اساس ہے درس حاصل کریں۔ کبھی بھی آسودگی اور رفاہ کی حالت میں حق کا پرچم بلند کرنے اور اس کے حق میں نعرے لگانے سے حق نہیں پھیلا کرتا۔ حق اس وقت پھیلتا ہے جب اس کے طرفدار حق کے راستے میں استقامت اور پائداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے باوفا ساتھیوں نے بعثت کے بعد بے مثال استقامت کا ثبوت دیا۔ شعب ابی طالب کا واقعہ سب کو یاد ہے۔ شعب ابی طالب مکہ کے قریب ایک درہ تھا جہاں نہ تو پانی تھا اور نہ ہی درخت اور سبزہ۔ اس درے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں نے تین سال محاصرے میں گزارے۔ رات سے لے کر صبح تک بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر روتے تھے۔ ان کا گریہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے رونے کی آواز شعب ابی طالب سے مکہ میں رہنے والے مشرکین تک جا پہنچتی تھی۔ کفار میں موجود نرم دل انسانوں کو ان بچوں پر رحم آتا تھا لیکن اپنے بڑوں کے خوف سے مسلمانوں کی مدد کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے بھوک سے فوت ہو رہے تھے۔ ان تین سالوں میں کتنے ہی افراد فوت ہو گئے۔ کتنے افراد مریض ہو گئے۔ انہوں نے بھوک کو برداشت کیا لیکن اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

امیرالمومنین علی علیہ السلام اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ سے فرماتے ہیں: اگر پہاڑ اپنے جگہ سے ہل جائیں تم اپنے راستے سے منحرف نہ ہونا۔ یہ وہی نصیحت ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی ہے۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ہے۔ یہی امت مسلمہ کے اٹھ کھڑے ہونے کا حقیقی راستہ ہے۔ یہ درحقیقت امت اسلامی کی بعثت ہے۔ یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمارے لئے درس ہے۔ بعثت ہمیں استقامت اور پائداری کا درس دیتی ہے۔ [30 جولائی 2008ء]۔

اس "انما" کے اندر بہت معنا پوشیدہ ہیں:
آپ دیکھیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
"انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق"۔
اس حدیث کو اہلسنت اور اہل تشیع کے راویوں نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں لفظ "انما" اپنے اندر بہت زیادہ معانی لئے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا واحد ہدف مکارم اخلاق کی تکمیل ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام اہداف مقدمہ اور پیش خیمہ ہیں۔ اصل ہدف یہ ہے کہ انسان اور انسانی معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ ملے اور اس طرح سے یہ امت کمال کے درجات طے کرے۔ سب انسان اخلاقی اقدار سے لیس ہو کر انسانیت کی اعلی منازل تک پہنچیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے اندر انسانی اخلاق کی تکمیل اور تقویت کریں۔ اگر ایک ایسے معاشرے میں جو اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے اور ایک ایسے نظام حکومت میں جس کی بنیاد اسلام پر ہے ہم الہی اخلاق سے دور ہو جائیں اور اپنی نفسانی خواہشات، خود پرستی اور خود خواہی کے پیچھے چل نکلیں، ہر کسی کی یہ کوشش ہو کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال و متاع جمع کر لے، بہتر غذا کھائے اور بہتر انداز میں زندگی گزارے، دوسروں کا مال ہڑپ کرے، اپنے حق سے بڑھ کر حاصل کرے، نہ تو ایثار کا مظاہرہ کرے اور نہ ہی بخشش کا، تو یہ کیسا معاشرہ اور کیسی حکومت ہو گی؟ یہ کس طرح اسلامی معاشرہ کہلایا جا سکتا ہے؟ [9 دسمبر 1996ء]۔

ہم مسلمان قصور وار ہیں:
ہر وہ چیز جو بنی نوع انسان کو ضرورت ہے، یہ انسان چاہے جس زمانے کا ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتا ہو، بعثت میں موجود ہے۔ یعنی علم و معرفت، حکمت و رحمت، عدل و بھائی چارہ اور مساوات۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن پر انسان کی صالح زندگی کی بنیادیں استوار ہیں۔ آج بشریت ان علوم کی محتاج ہے۔ ہم مسلمان قصور وار ہیں اور ہمیں اپنے قصور کا اعتراف کرنا چاہئے۔ اول تو ہم نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں کوتاہی کا ثبوت دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ عالمی سطح پر اسلام کا صحیح ماڈل بھی پیش نہیں کر پائے۔ اگر مسلمانان عالم اپنے عمل اور اجتماعی اور انفرادی رویئے اور حکومتی اور سیاسی نظام کو اسلام کی صحیح تعلیمات پر استوار کر لیں تو یہ اسلام کی بہترین اور اعلی ترین تبلیغ ہو گی۔ [15 اکتوبر 2001]۔

اسلام کی عظیم ترین تبلیغ:
قرون وسطائی کے بعد جب مسیحیت اور مغربی دنیا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ مہم شروع کی اور اسلام کے بدترین دشمن اس نتیجے پر پہنچے کہ دین مبین اسلام سے مقابلہ کرنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کو مخدوش کریں تو اس ضمن میں بڑی تعداد میں اقدامات انجام دیئے گئے۔ آج تک اسلام دشمن عناصر مسلسل مختلف طریقوں سے دنیا والوں کے ذہن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں موجود تصور کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اگر صرف اسی حد تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت سے آگاہ ہو جائیں جتنا مسلمان آگاہ ہیں یا حتی اس سے بھی کم حد تک آگاہ ہو جائیں تو فورا اسلام اور اسلامی روحانیت کی جانب جھکاو پیدا کر لیں گے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس شعبے میں موثر اقدامات انجام دیں۔

اسلام کی عظیم ترین تبلیغ شائد یہی ہو سکتی ہے کہ ہم دنیا والوں کے سامنے نبی اکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی چہرے کو روشن کریں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر مسلمان علمای دین اور فنکار حضرات اپنے خوبصورت انداز اور بیان سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیاری شخصیت کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے تاکہ اسلام دشمن عناصر اپنے انتہائی پیچیدہ ثقافتی اور فنی ہتھکنڈوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کم آگاھی رکھنے والے افراد کے ذہن میں رسول مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کو خراب کرنے کی جرات نہ کر سکتے۔ ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں صحیح تصور کو پیش کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کے تمام پہلووں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ ص کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک اخلاقی پہلو ہے۔ دوسرا سیاسی پہلو ہے یعنی آپ ص کی روش حکومت ہے۔ اسی طرح آپ ص کی عبادت، جہاد اور مخصوص تعلیمات ہیں جن پر توجہ کرنی چاہئے۔ ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں صرف کتابیں لکھنے تک ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ تبلیغ کے جدید طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موثر اقدامات انجام دینے چاہئیں۔ انہیں میں سے ایک طریقہ فنکاری کا طریقہ ہے۔ یعنی فلم اور ڈراموں کے ذریعے۔ [16 اکتوبر 1989]۔
Share/Save/Bookmark