انسانی حقوق کی تنظیم:
اسرائیل بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار
برطانیہ میں عرب اور فلسطینی حقوق کے سرگرم ادارے"عرب انسانی حقوق" نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے حملوں اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیل بیت المقدس میں فلسطینی آبادی کی منظم اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۸ فروردين ۱۳۹۳ گھنٹہ ۰۲:۵۶
موضوع نمبر: 155243
 

تقریب خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق "لندن عرب انسانی حقوق گروپ " کی جانب سے عالمی فیصلہ سازوں اور اہم شخصیات کے نام ایک مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں بیت المقدس میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، بیت المقدس کی اسلامی شناخت کو لاحق خطرات، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں بالخصوص مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات پر انہیں آگاہ کیا گیا ہے۔


مراسلے میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں جہاں اسرائیلی ریاست ملوث ہے وہاں پر بین الاقوامی برادری اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے بااثر ممالک بھی شامل ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ کھلے عام نا انصافی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی لاپرواہی اور مبینہ غفلت نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف مظالم میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔


مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی اور غفلت کے نتیجے میں اسرائیلی پارلیمنٹ بیت المقدس کو یہودیانے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ حکومت آئے روز بیت المقدس کو یہودیانے کے لیے وہاں پر یہودیوں کے تعمیراتی منصوبوں کا اعلان کرتی ہے جبکہ اسرائیلی فوج اور پولیس طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یوں اسرائیل کی تمام ریاستی میشنری فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں تباہ وبرباد کرنے پر مرکوز ہے۔


مکتوب میں کہا گیا ہے کہ نا انصافی کی انتہا یہ ہے کہ اسرائیلی فوج بندوق کی نوک پر فلسطینی شہریوں سے ان کے مکانات کو انہی سے مسمار کرا رہے ہیں۔ رواں ماہ مارچ میں بیت المقدس میں سات مکانات اور دکانیں اور ان کے مالکان سے مسمار کرائی گئیں۔ عالمی برادری کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی اور نہ ہی اسرائیل کو ایسا کرنے منع کرنے کا کوئی مطالبہ سامنے آیا۔ اسی ماہ 13 مکانات کے مالکان کو صہیونی فوج نے خالی کرنے نوٹس جاری کیے اور صہیونی حکومت نے اپنی جانب سے شہرمقدس میں 2250 مکانات کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کر کے یہ ثابت کر دیا ہے اسے فلسطینیوں کے خلاف مظالم میں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے۔


مکتوب میں عالمی برادری کو بیت المقدس کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد فوری حرکت میں آنے اور فلسطینیوں کی نسل بچانے کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کو یہودیانے بچانے کے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ اگر بیت المقدس فلسطینیوں سے مستقل طور پر چھین لیا جاتا ہے تو دنیا کی سب سے بڑی نا انصافی ہو گی اور تاریخی کبھی بھی دنیا کو اس ظلم پر معاف نہیں کرے گی۔









Share/Save/Bookmark