ایک صیہونی عہدیدار نے کہا کہ یمنی فوج نے پچھلے ایک سال سے تل ابیب کے اسٹریٹجک سمندری راستے کو بند کر رکھا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے جارحانہ حملے یمن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔
تفصیلات کے مطابق، مزاحمتی میڈیا ذرائع نے صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم کے حوالے سے خبر دی ہے کہ صیہونی ریزرو فورسز کے بریگیڈیئر جنرل "غرشون کوہین" نے اعتراف کیا ہے کہ یمنی فوج نے گزشتہ ایک سال سے اسرائیل کا بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب کا اسٹریٹجک سمندری راستہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل چیلنجوں کا شکار تھا اور اس سلسلے میں امریکہ اور برطانیہ کے فوجی اتحاد کی کوششیں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔
صہیونی روزنامہ معاریو نے بھی لکھا ہے کہ اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار "آوی اشکنازی" نے یمن کی طرف سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں صیہونی فضائی دفاعی نظام کی نا اہلی کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک یمنی ڈرون اسرائیل میں اسٹریٹجک تنصیبات پر آسانی سے حملہ کرتا ہے جب کہ اس دوران اسرائیلی فضائی سسٹم مکمل طور پر فیل ہوجاتا ہے۔
اسرائیلی دفاعی ماہرین یمن کی بیلسٹک میزائل طاقت پر انگشت بدندان رہ گئے ہیں۔
دوسری طرف یمن نے غزہ کے خلاف صیہونی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ تل ابیب پر اپنے حملوں میں تیزی لانے کا عزم دہرایا ہے۔