شام کے علوی اکثریتی علاقوں میں 30 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت
اب تک علوی آبادی والے علاقوں سے تقریباً 2 ہزار لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ ان میں سے کئی افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا، کچھ کے سر قلم کیے گئے جبکہ بعض کو زندہ جلا دیا گیا۔
شام کے علوی اکثریتی علاقوں میں 30 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں حالیہ حملوں کے دوران قتل ہونے والے درجنوں شہریوں کی لاشیں دفن تھیں۔
شامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے علوی اکثریتی علاقوں میں 30 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں حالیہ حملوں کے متاثرین کی لاشیں دفن تھیں۔ ان حملوں کا الزام شدت پسند تنظیم تحریر الشام کے دہشت گرد عناصر پر عائد کیا جارہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق گذشتہ تین ہفتوں کے دوران بعض سول ادارے متاثرہ ساحلی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جہاں ان کے کارکنوں نے قتل عام کے واقعات کی دستاویزات تیار کیں۔ ان قبروں میں دفن افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جن میں پورا پورا خاندان دفن ہے جن میں دادا، دادی سے لے کر پوتے پوتیوں تک شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اب تک علوی آبادی والے علاقوں سے تقریباً 2 ہزار لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ ان میں سے کئی افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا، کچھ کے سر قلم کیے گئے جبکہ بعض کو زندہ جلا دیا گیا۔
ان دل دہلا دینے والے انکشافات کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری فوری طور پر کارروائی کرے اور ان مظالم کی غیر جانبدار تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔