ہر فتنے کي جڑ شیطان بزرگ امريکا ہے
عوام سڑکوں پر نکلے تو حکومتيں روہنگيا مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے پر مجبور ہوگئيں
نتائج کي پروا کئے بغير ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہيں، برما کے روہنگيا مسلمانوں سے اظہار يک جہتي کے لئے جو مظاہرے اور احتجاج کئے جا رہے ہيں، يہ ہمارا وظيفہ ہیں
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۸ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۴۲
موضوع نمبر: 284600
 
فلسطين، کشمير اور برما، سعودی اسلامی اتحاد کا کردار کہیں نظر نہیں آتا ہے، علامہ حسن ظفر نقوی
 
عوام سڑکوں پر نکلے تو حکومتيں روہنگيا مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے پر مجبور ہوگئيں، تقریب نیوز ایجنسی سے گفتگو

 
مجلس وحدت مسلمين کے مرکزی ڈپٹي سيکريٹري جنرل علامہ حسن ظفر نقوي نے کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا ہے کہ "نتائج کي پروا کئے بغير ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہيں، برما کے روہنگيا مسلمانوں سے اظہار يک جہتي کے لئے جو مظاہرے اور احتجاج کئے جا رہے ہيں، يہ ہمارا وظيفہ ہیں، اگر نتائج کي پروا ہوتي تو شيطان بزرگ امريکا کے سامنے گذشتہ چاليس سال سے ہم ڈٹے کھڑے نہ ہوتے۔ روہنگيا کے مسلمان ہوں يا فلسطين کے، کشمير کے ہوں يا عراق کے، ہر سازش بلکہ ہر قتل عام کے پيچھے چاہے وہ لبنان ميں ہو يا شام اور عراق ميں ہي کيوں نہ ہو، اس شيطان بزرگ کا ہاتھ ہے، گويا ہر فتنے کي جڑ امريکا ہے۔"
 
 
امریکا نے اب پاکستان پر ڈومور کے لئے دباو بڑھانا شروع کیا ہے، اس سوال کے جواب میں علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ "ہم نے کبھي امريکا يا اسرائيل کے آگے سرتسليم خم نہيں کيا، يا يہ کہيں کہ ہم نے ان ظالموں کے آگے کبھي سرينڈر نہيں کيا، اور آج اس بے باکي اور شجاعت کا نتيجہ آج يہ ہے کہ پوري دنيا ميں بيداري کي لہر ہے، آج وہي امريکا جسے پاکستان کي حکومت اپنا سب سے بڑا دوست سمجھتي تھي، ليکن اگر يہ کمزور و نحيف آوازيں نہ ہوتيں تو دنيا کو معلوم نہ ہوتا کہ امريکا ہي ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، دنیا پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کررہی ہے، چین، ایران، روس بلکہ برطانیہ تک نے پاکستان کی خدمات کو تسلیم کیا ہے، لیکن امریکا کی بات سب سے نرالی ہے۔"
 
 
مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے برما کے مسلمانوں سے یک جہتی کے لئے مظاہروں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "برما کے مسلمانوں سے يک جہتي کے لئے يہ چھوٹے چھوٹے احتجاج مجلس وحدت مسلمين کررہي ہے، بلکہ ميرے خيال سے تمام جماعتيں ہي احتجاجي مظاہرے کر رہي ہيں، ان احتجاجوں کا يقينا اثر ہے، اگر يہ بے اثر ہوتے تو ان کو مزيد تقويت نہ ملتي، ايک بات اور آپ کو بتاؤں کہ کچھ روز پہلے تک دنيا کي کوئي حکومت روہنگيا مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے کو تيار نہ تھي، کسي حکمران کو يہ توفيق نہ تھي، ليکن يہ ہم لوگ ہيں، عوام ہيں جو سڑکوں پر نکلے ہيں تو اب الحمدللہ جب عوام نے اپنے مسلمان بھائيوں سے محبت کا اعلان کيا، تو مختلف حکومتيں روہنگيا کے مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے پر مجبور ہوگئيں۔"
 
 علامہ حسن ظفر نقوی نے مزید کہا کہ "يہ وہ اثر ہے جو ساري دنيا کو نظر آرہا ہے، چاہے نحيف و کمزور آوازيں ہي سہي، ليکن يہ اس قدر پراثر ہيں کہ ان کي وجہ سے اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل کو برما کے لئے بولنا پڑا، ورنہ وہ بھي خاموش تھا، آج امريکا کي وزارت خارجہ اور سخنور کو لب کشائي کرنا پڑي، ورنہ وہي لوگ تو اس قتل عام کے ذمہ دار ہيں، آج مغربي دنيا بلکہ برطانيہ کي اسمبلي ميں وہاں کے ارکان سينيٹ کو بھي برما کے معاملے پر بولنا پڑ رہا ہے، اس کي وجہ کيا ہے، يقينا اس کي وجہ ہمارا سڑکوں پر ہونا ہے، ہم ميدان ميں ہيں، ہميں يقين ہے کہ روہنگيا کے مسلمانوں تک ہماري آواز پہنچ رہي ہے، انھيں معلوم ہے کہ پوري دنيا کے مسلمان چاہے حکمراں ساتھ ہوں يا نہ ہوں، مسلمان ان مظلومين کے ساتھ ہيں، اور ہميشہ رہيں گے، ہمارا جينا مرنا سب انہي کے ساتھ ہے۔"
  
سعودي اسلامي اتحاد کے بارے ميں کئے گئے سوال کے جواب ميں علامہ حسن ظفر نقوي نے کہا کہ "يہي تو ميرا بھي سوال ہے کہ وہ چونتيس، اور انتاليس اور اکتاليس نہ جانے کتنے ملکوں کے وہ فوجي کہاں گئے، وہ اسلامی اتحاد کیا ہوا، سعودي عرب کا دعويٰ تو يہ تھا کہ يہ اتحاد مسلم امہ کا دفاع کرے گا، اب پتہ چل گيا کہ اس اتحاد نے نہ فلسطين ميں مسلمانوں کا دفاع  کيا، نہ کشمير ميں اور نہ برما ميں اس کا کوئي کردار نظر آتا ہے، کہاں گئي وہ اسلامي فوج، کدھر گئے اس کے فوجي، پس ثابت ہوگيا کہ وہ نام نہاد اتحاد امريکا کي قيادت ميں بنا تھا، اور رياض حکومت نے جھوٹ بولا کہ فلاں کي قيادت حاصل ہے، ليکن اب برما کے معاملے پر ثابت ہوگيا کہ وہ اتحاد دراصل اسلام کے خلاف امريکا کي سرپرستي ميں قائم کيا گيا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا تھا، ليکن اللہ نے ان کي سازش کو ناکام بنا ديا، آج دنيا کا ہر مسلمان جانتا ہے کہ اتحاد مسلمانون کے دفاع کے لئے نہيں، مسلمانوں کے خيانت کار آل سعود کے دفاع کے لئے بنايا گيا ہے۔"
 
علامہ حسن ظفر نقوي نے کہا کہ "ہم حکومت پاکستان سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہيں کہ اگر حکمران وہاں نہيں جاسکتے تو ہميں اور ہمارے لوگوں کو برما جانے کي اجازت دي جائے، ہمارے لوگ روہنگيا مسلمانوں کے لئے امدادي سامان لئے تيار بيٹھے ہيں، يہ تحريک روز بروز بڑھتي جارہي ہے، احتجاج زور پکڑتا جا رہا ہے، ہميں يقين ہے کہ ان احتجاجوں اور ريليوں سے ميانمار کي حکومت ہل کر رہ جائے گي، اور حالات عنقريب وہاں کے مسلمانوں کے حق ميں آجائيں گے"
 
Share/Save/Bookmark