لبنان: صدارتی انتخابات میں نئی کشمکش/ سلیمان فرنگیہ دستبردار
گزشتہ روز حزب اللہ کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار سلیمان فرنگیہ نے اعلان کیا کہ وہ سپہ سالار جوزف عون کے حق میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو رہے ہیں
شیئرینگ :
لبنان کے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کے نئے اجلاس میں ایک بار پھر ارکان اسمبلی سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کی پارلیمنٹ نے 2 سال کے دوران 12 مرتبہ ملکی صدر کے انتخاب کی کوشش کی لیکن کسی بھی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ سکی۔
تاہم اب 12 ناکام کوششوں کے بعد صدر کے انتخاب کے لیے لبنان کی پارلیمنٹ کا دوبارہ اجلاس کیا جا رہا ہے اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اب یہ معرکہ سر ہوجائے گا۔
سرکردہ امیدوار لبنانی فوج کے کمانڈر جوزف عون ہیں اور ممکن ہے کہ وہ سابق صدر میشل عون کے جانشین کے طور پر منتخب ہو جائیں گے۔
جوزف عون کو وسیع پیمانے پر امریکا اور سعودی عرب کے پسندیدہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔
قبل ازیں صدر کے لیے حزب اللہ نے سلیمان فرنگیہ کی حمایت کی تھی جو ایک عیسائی جماعت کے رہنما تھے اور ان کے شام کے سابق صدر بشار اسد کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔
تاہم گذشتہ چند ماہ کے دوران پیش آںے والے واقعات، صہیونی حملوں اور حزب اللہ کی اہم شخصیات کی شہادتوں کے بعد گزشتہ روز سلیمان فرنگیہ نے اعلان کیا کہ وہ سپہ سالار جوزف عون کے حق میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
بحیثیت موجودہ آرمی کمانڈر جوزف عون کو لبنان کے آئین نے تکنیکی طور پر صدر بننے سے روک سکتا تھا تاہم یہ پابندی بھی پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ میشل عون کی مدت اکتوبر 2022 میں ختم ہوئی تھی تاہم اس کے بعد کوئی صدارتی امیدوار 128 رکنی پارلیمان کی دو تہائی اکثریت یا پھر دوسرے مرحلے میں سادہ اکثریت حاصل نہیں کرپایا تھا۔
واضح رہے کہ لبنان ایک کثیر الاختلافی فرقہ وارانہ اور سیاسی تقسیم کا حامل ملک ہے اور ان دو عوامل کے باعث ملک ہمیشہ حکومتی بحران کا شکار رہتا ہے۔